پاکستان کا سارا نظام ہی الٹا ہے، یہاں حکومت ہی عوام کو لوٹتی ہے، اور یہاں کے خبریں دینے والے چینلزچند روپوں کے اشتہاروں کے عوض اپنا قلم اور زبان انہیں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، چشم کشاٗ کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ عوام کو ان پسِ پردہ عزائم سے آگاہ رکھا جائے جو حکومت اور بیرونی طاقتیں امداد یا ترقی کے نام پرپورے ہوتے ہیں
منگل، 23 ستمبر، 2014
جمعرات، 26 ستمبر، 2013
خاندانی منصوبہ بندی کی حقیقت
خاندانی منصوبہ بندی کی حقیقت
تھامس مالتھس (۱۷۶۶ء تا ۱۸۳۴ء) نے ۱۷۹۸ء میں Essay on Population اور پھر اس کے نظر ثانی شدہ دوسرے ایڈیشن ۱۹۰۳ء میں Essay on the Principle of Population میں آبادی اور زمینی وسائل کے عدم تناسب کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ علمی اور تحقیقی بحث سے قطع نظر بیسویں صدی کے امریکی اور یورپی پالیسی سازوں کے لیے اپنے استعماری اور نسل پرستانہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ اور جواز بن گیا ہے۔ تیسری دنیا کے کسی ایشیائی یا افریقی دانشور کی طرف سے یہ دعویٰ بادی النظر میں ترقی یافتہ دنیا کے خلاف اس کے تعصب اور غصے کا شاخسانہ نظر آتاہے جو عام طور پر اپنی پسماندگی، غربت اور جہالت کو اپنی نااہلی کی وجہ سمجھنے کی بجائے ترقی یافتہ اور خوشحال قوموں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ بات اس پسِ منظر میں اور بھی زیادہ قرینِ قیاس نظر آتی ہے جب دنیا کے دانشواروں کی بظاہر اکثریت مالتھسی نظریہ آبادی کے زیرِ اثر بڑھتی ہوئی آبادی کو اس دنیا کی بقا اور خوشحالی کے لیے سب سے بڑا خطرہ گردانتی ے بلکہ آبادی اور وسائل کے تناسب کا یہ نظریہ ان کے ایمان کا حصہ بن چکا ہے۔
